دنیاکی سب سے چھوٹی اڑن کارتیار،عام آدمی کے استعمال کے لیے کارکب مارکیٹ میں آئیگی ،جانیں - Health care

Mobile Menu

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.
اسلام,6,امریکہ,1,اہم خبریں,12,بین الاقوامی.,6,پاکستان,7,پکوان,6,خواتین,6,دلچسپ و عجیب,6,سائنس و ٹیکنالوجی,5,شوبز,6,صحت,7,کاروبار,6,کھیل,6,

یہ بلاگ تلاش کریں

نام

Health care

Top Ads

Responsive Leaderboard Ad Area with adjustable height and width.

More News

logoblog

دنیاکی سب سے چھوٹی اڑن کارتیار،عام آدمی کے استعمال کے لیے کارکب مارکیٹ میں آئیگی ،جانیں

منگل، 28 جنوری، 2020



ٹوکیو(ویب ڈیسک)جاپان کی ایک کمپنی نے دنیا کے سب سے چھوٹی اڑنے والی کار بنانے کا دعویٰ کیا ہے اور ثبوت کے طور پر ایک ویڈیو بھی جاری کی ہے۔ اس میں ایک انسان آسانی سے بیٹھ سکتا ہے۔کمپنی کے مطابق اس سال موسمِ گرما میں عوام کےسامنے گاڑی پیش کی جائے گی
اور پرواز کا مظاہرہ بھی کیا جائے گا۔ کمپنی کے مطابق ناگویا کے شہر کے باہر کمپنی کے تحقیقی فلائٹ کے مرکز میں دن رات اس کی آزمائش کی جارہی ہے۔جاپان کے مشہورا خباراور ویب سائٹ اساہی شامبوں کے مطابق اس کی فروخت کے لیے بکنگ 2023 سے شروع ہوجائے گی اور 2026 سے خریداروں تک آرڈر کی فراہمی کا سلسلہ جاری ہوگا۔ اس وقت فلائٹ ٹیسٹ میں انسانوں کو بٹھا کریا پھر ریموٹ کنٹرول سے آزمائش کی جارہی ہے۔اس کی تیاری میں کلیدی کردار ٹویوٹا کمپنی کے سابقہ انجینیئروں کا ہے جس نے اسے ڈیزائن کیا ہے۔ اپنی جسامت کی بنا پر اسے دنیا کی سب سے چھوٹی اڑن کار قرار دیا جاسکتا ہے۔ 2017 میں ٹویوٹا کمپنی نے تحقیق کے لیے اسکائی ڈرائیو کمپنی کو ساڑھے تین لاکھ ڈالر کی رقم بھی دی تھی۔اسکائی ڈرائیو نے مزید حقائق بتانے سے انکار کرتے ہوئے بعض تصاویر ایک ویڈیو ہی جاری کی ہے۔ کمپنی کے مطابق تمام آزمائشی مراحل انتہائی کامیابی سے جاری ہیں۔ کار کے اولین ماڈل کی اونچائی پانچ فٹ، لمبائی اور چوڑائی دونوں ہی 12 فٹ ہے۔اسکائی ڈرائیو کے مطابق گنجان شہروں مثلاً ٹوکیو اور نیویارک کے لیے یہ ایک بہترین سواری ہوگی اور اسے لوگوں کی مدد اور حادثات میں بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔ ہوا میں اس کی رفتار 62 میل فی گھنٹہ ہوگی اور زمین سے قربت پر یہ رفتار بڑھ کر 93 میل فی گھنٹہ ہوجاتی ہے۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں